نئی دہلی28مارچ (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا )کالے ہرن شکار معاملہ میں 5 اپریل کو سلمان خان کی قسمت کا فیصلہ ہوگا۔ عدالت میں سالوں سے چل رہے اس کیس پر فیصلے کی تاریخ 5 اپریل طے ہوئی ہے۔ کالے ہرن کے شکار معاملہ میں سلمان خان کے علاوہ سیف علی خان، سونالی بیندرے، تبو اور نیلم ملزم ہیں ۔ 1999 میں آئی فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہے‘ کی شوٹنگ کی دوران سلمان خان پر ہرن کے شکار کا الزام لگا تھا۔ ایک اور دو اکتوبر 1998 کی رات فلم کی شوٹنگ کے دوران جودھپور کے پاس کانکانی کے دو کالے ہرنوں کے شکار کا الزام سلمان خان پر لگا تھا۔شوٹنگ کے دوران سلمان خان کے ساتھ سیف علی خان، سونالی بیندرے، تبو اور نیلم بھی تھے؛ لہٰذا عدالت نے سلمان کے ساتھ ان لوگوں کو بھی بیان درج کرانے کا حکم دیا ہے ۔ فلم کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر ہرنوں کے شکار کے تین کیس چلے اور ایک کیس شکار کے دوران استعمال کئے گئے ہتھیار کو لے کر چلا۔ 18 جنوری کو سلمان خان آرمس ایکٹ کے کیس میں لوئر کورٹ سے بری ہو چکے ہیںبھواد کے چنکارا کیس میں سلمان ہائی کورٹ سے بری ہو چکے ہیں۔گھوڑافارم چنکارا کیس میں بھی سلمان ہائی کورٹ سے بری ہو چکے ہیں۔چار میں سے تین مقدمات میں سلمان بری ہو چکے ہیں اب یہ آخری کیس کانکانی میں کالے ہرنوں کے شکار کا ہے جس میں سلمان اور فلم کے دوسرے فنکاروں کو آج جودھپور کی سی جی ایم کورٹ میں بیان درج کرانا تھا۔ اس کیس میں 20 سالوں سے قانونی عمل جاری ہے۔ واضح ہو کہ یہ معاملہ اس وقت کا ہے جب فلم’ہم ساتھ ساتھ ہیں ‘ کی شوٹنگ چل رہی تھی۔سلمان خان پر الزام ہے کہ 28 ستمبر 1998 کو انہوں نے دو چنکارا کا شکار کیا تھا ۔ چنکارا محکمہ جنگلات ایکٹ کے تحت ایک تحفظ فراہم کردہ مخلوق ہے ۔ نچلی عدالت نے سلمان خان کو مورد الزام ٹھہرایا تھا۔